The Silent Wait – A Life Trapped Between Distance and Duty
سات سال پہلے جب میری رخصتی ہوئی تھی تو سب کہتے تھے، “کتنی خوش قسمت ہے… بیرونِ ملک بسنے والا شوہر، مضبوط مستقبل، پُرآسائش زندگی۔”
آج سات سال بعد میں خود سے پوچھتی ہوں… کیا واقعی میں خوش قسمت ہوں؟
ان سات برسوں میں وہ صرف دو بار پاکستان آیا۔ باقی وقت صرف وعدے، بہانے اور خاموشیاں۔
پانچ سال سے زیادہ ہو گئے ہیں اسے گئے ہوئے، مگر واپسی کی کوئی تاریخ نہیں، کوئی یقین نہیں۔
میری ایک چھ سال کی بیٹی ہے جو ہر رات مجھ سے ایک ہی سوال کرتی ہے:
“ماما… بابا کب آئیں گے؟”
اور میرے پاس ہر بار صرف ایک جھوٹ ہوتا ہے:
“جلد آ جائیں گے بیٹا…”
جب بھی میں ان سے پوچھتی ہوں کہ آخر کب واپس آنا ہے، بات لڑائی میں بدل جاتی ہے۔ کبھی فون بند، کبھی میسج بلاک۔
پھر کئی کئی دن صرف خاموشی کا شور رہ جاتا ہے۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ شاید طلاق لے لوں…
مگر بیٹی کا معصوم چہرہ دیکھ کر قدم رک جاتے ہیں۔
دنیا سمجھتی ہے میں بہت مطمئن ہوں۔
اچھے کپڑے، سونا، پیسے، سہولتیں… سب کچھ تو ہے میرے پاس۔
لوگ رشک سے کہتے ہیں: “تم کتنی خوش نصیب ہو!”
لیکن کوئی نہیں جانتا کہ جس کے لیے یہ سب تھا، وہ تو میری زندگی میں موجود ہی نہیں۔
میں ایک ایسے گھر میں رہتی ہوں جو خوبصورت تو ہے…
مگر اندر سے بالکل خالی۔
والدین بیٹی کو یہ سوچ کر رخصت کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سکھی رہے گی۔
مگر بعض رشتے سکھ نہیں ہوتے…
بس ایک خوبصورت نظر آنے والی قید ہوتے ہیں۔
ایسی قید جس میں عورت سانس تو لیتی ہے، مگر جیتی نہیں۔
سالوں کا انتظار، سسرال کے طعنے، لوگوں کی نظریں، معاشرے کے سوال…
اور آخر میں الزام صرف ایک عورت پر۔
ان پانچ برسوں میں میں اندر سے بالکل بدل گئی ہوں۔
وہ لڑکی جو کبھی ہنستی تھی، اب آئینے سے بھی نظریں چرانے لگی ہے۔
دل بیمار رہنے لگا ہے، نیند روٹھ گئی ہے، خوشیاں کہیں کھو گئی ہیں۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں—
کیا واقعی پیسہ، سامان اور آسائشیں محبت کا بدل ہو سکتی ہیں؟
اگر شوہر ساتھ نہ ہو، احساس نہ ہو، ساتھ جینے کا سہارا نہ ہو—
تو پھر یہ سب کس کام کا؟
میں آج بھی انتظار میں ہوں…
مگر اب نہیں جانتی کہ میں کسی کی واپسی کا انتظار کر رہی ہوں…
یا اپنی باقی رہ جانے والی زندگی کے ختم ہونے کا۔
ے کہاں استعمال کرنا چاہتی ہیں 🌿