تم نے میرا ساتھ دیا، میں مانتی ہوں۔ لیکن اب ہماری دنیا ایک نہیں رہی۔
میں بس اسٹینڈ کے باہر چائے کی ریڑھی لگاتا تھا۔ دن بھر لوگوں کے کپ دھوتا، رات کو تھکن سے ٹوٹ جاتا۔ ایک دن میونسپل آفیسر آیا اور بغیر کچھ سنے میری ریڑھی الٹ دی۔ بولا: “یہاں دوبارہ نظر آئے تو سیدھا جیل جاؤ گے۔”
میں خاموشی سے گھر لوٹا۔ بیوی کو سب بتایا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو اور غصہ دونوں تھے۔ اُس نے کہا:
“اگر یہ نظام ہمیں عزت نہیں دیتا تو میں خود اس نظام کا حصہ بنوں گی۔”
اُسی دن اُس نے سرکاری نوکری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔
میں نے اپنی نیند، آرام، سب کچھ بیچ دیا۔ کبھی فیکٹری میں کام، کبھی رات کی شفٹ۔ پانچ سال گزر گئے۔ ایک دن اُس نے آ کر کہا:
“میں کامیاب ہو گئی ہوں۔”
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آنکھیں بھر آئیں۔ میں شکرانے کے نفل پڑھنے لگا اور باہر مٹھائی لینے چلا گیا۔
جب واپس آیا تو گھر خالی تھا۔ الماری آدھی خالی، کمرہ سنسان۔ دروازے پر ایک لفافہ رکھا تھا۔
لفافہ کھولا تو لکھا تھا:
“تم نے میرا ساتھ دیا، میں مانتی ہوں۔ لیکن اب ہماری دنیا ایک نہیں رہی۔ کل تمہیں کاغذات مل جائیں گے، براہِ کرم دستخط کر دینا۔”
میں نے خاموشی سے کاغذات پر دستخط کیے۔ آج بھی میں چائے بناتا ہوں، مگر اب ایک بات سیکھ چکا ہوں:
جو لوگ مشکل میں ساتھ ہوں، کامیابی کے بعد اُنہیں چھوڑ دینا سب سے بڑی ناکامی ہوتی ہے۔