The Bride from the Accident
ریڑھی والے سے 50 روپے کے پکوڑے خریدے۔ پکوڑے ختم ہوئے تو اخبار کے ٹکڑے پر میری نظر پڑی۔ ایک بزنس مین نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے اشتہار دیا تھا اور گھر داماد ہونے کی بھی شرط لکھی تھی۔ بتائے کئے ایڈریس پر پہنچا تو پتہ چلا کہ لڑکی خطرناک پا گل ہے اور کوئی شادی کے لیے رضامند نہیں میں نے سوچا کہ رکشہ چلانے سے بہتر ہے کہ پا گل لڑکی سے شادی کر کے کروڑ پتی بن جاؤں۔ سہارگ رات پر کمرے میں داخل ہوا تو دلہن نے lipstick پورے چہرے پر لگائی ہوئی تھی، بال بکھرے ہوئے اور بڑے بڑے بھی ناخن تھے۔ دیوار پر لٹکی تصویر پر نظر پڑی تو فوراً پا گل دلہن کو پہچان گیا کیونکہ کچھ سال پہلے…See more
دیوار پر لٹکی تصویر پر نظر پڑی تو دل جیسے بیٹھ سا گیا۔
یہ تصویر کسی اور کی نہیں تھی… میری اپنی تھی۔
میں نے گھبرا کر دوبارہ دیکھا۔ وہی آنکھیں، وہی چہرہ، وہی نشان جو میرے بائیں گال پر بچپن کے حادثے سے تھا۔
میرے ہاتھ کانپنے لگے۔
میں نے آہستہ سے دلہن کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرا رہی تھی… مگر وہ مسکراہٹ انسانی نہیں تھی۔
اس نے کھردری آواز میں کہا:
“پہچان لیا نا؟”
میرے دماغ میں ایک پرانا واقعہ بجلی بن کر کوند گیا۔
کچھ سال پہلے ایک رات… میں نے نشے میں رکشہ چلاتے ہوئے ایک لڑکی کو کچل دیا تھا۔
میں ڈر کے مارے بھاگ گیا تھا۔
اگلے دن اخبار میں خبر آئی تھی:
“نامعلوم لڑکی موقع پر ہی ہلاک”
میرے منہ سے بس اتنا نکلا:
“تم… تم وہی ہو؟”
وہ زور سے ہنسی۔
اس کے ناخن اور لمبے ہو گئے، آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
“اب بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں… اب تم میرے ہو۔ گھر داماد بھی، اور سزا بھی۔”
کمرے کی بتیاں خود بخود بند ہو گئیں۔
اور دروازہ… اندر سے بند ہو چکا تھا۔
اچانک کمرے میں ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔
دلہن کے بال خود بخود اُڑنے لگے، جیسے کسی نے پکڑ کر جھٹکا دیا ہو۔
میں پیچھے ہٹا تو دیوار سے ٹکرایا—وہ تصویر اب غائب تھی۔
اس نے آہستہ آہستہ قدم میری طرف بڑھائے۔
ہر قدم کے ساتھ فرش پر خون کے نشانات بننے لگے۔
“تم نے مجھے اُس رات سڑک پر اکیلا چھوڑ دیا تھا…”
اس کی آواز اب ایک نہیں، کئی آوازوں میں گونج رہی تھی۔
“اب میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔”
میں چیخ کر دروازے کی طرف بھاگا، مگر دروازہ پگھلنے لگا، جیسے موم ہو۔
میرے ہاتھ جل گئے۔
پیچھے مڑا تو وہ بالکل میرے سامنے تھی۔
اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا۔
دل کی دھڑکن رکنے لگی۔
اچانک کمرے کی بتیاں جل گئیں۔
باہر شور مچ گیا—لوگ، باپ، نوکر… سب اندر گھس آئے۔
اور میں…
زمین پر گرا ہوا تھا۔
ڈاکٹر نے بعد میں کہا:
“شدید صدمے سے پاگل ہو گیا ہے۔”
آج کئی سال ہو گئے ہیں۔
میں اسی حویلی کے ایک کمرے میں بند ہوں۔
سب کہتے ہیں:
“یہ لڑکی کی شادی کے دن پاگل ہو گیا تھا۔”
لیکن مسئلہ یہ ہے…
رات کو جب سب سو جاتے ہیں،
وہی دلہن سفید لباس میں آ کر میرے پاس بیٹھتی ہے،
میرے کان میں سرگوشی کرتی ہے:
“اب تم میرے گھر داماد ہو… ہمیشہ کے لیے.”
اور آج دیوار پر ایک نئی تصویر لٹکی ہے…
تمہاری۔ 😶🌫️
آج رات کچھ مختلف تھا۔
وہ آئی تو سفید لباس میں نہیں تھی…
بلکہ رکشے والے کپڑوں میں۔
میرے کپڑے۔
خون آلود قمیص۔
وہی نمبر پلیٹ جو اُس رات میرے رکشے پر تھی۔
میں چیخا:
“یہ سب ختم کرو! تم مر چکی ہو!”
وہ آہستہ سے بولی:
“نہیں… میں تو اُس دن مری تھی جب تم مرے تھے۔”
میرے سر میں شدید درد اٹھا۔
یادیں ایک ایک کر کے واپس آنے لگیں۔
اصل سچ یہ تھا:
اُس حادثے کی رات
لڑکی نہیں…
میں موقع پر ہی مر گیا تھا۔
رکشہ الٹ گیا تھا۔
میرا سر سڑک پر لگا تھا۔
لوگ جمع تھے، پولیس آئی تھی۔
اخبار میں خبر چھپی تھی:
“رکشہ ڈرائیور جاں بحق”
لیکن میری روح…
قصور کے بوجھ تلے وہیں اٹک گئی تھی۔
وہ بزنس مین، وہ شادی، وہ پاگل لڑکی…
سب میرا بنایا ہوا جہنم تھا
جہاں میں خود کو سزا دے رہا تھا۔
وہ مسکرائی، اس بار نرم سی مسکراہٹ۔
“اب تم سچ جان چکے ہو۔”
کمرے کی دیواریں ٹوٹنے لگیں۔
حویلی، پاگل خانہ، سب غائب۔
بس ایک اندھیری سڑک تھی۔
اور میں…
خون میں لت پت، سڑک پر پڑا۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔
“چلو۔ اب گھر چلیں۔”
اور پہلی بار…
ڈر نہیں لگا۔